| ان کے گرد لیے پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے | ۱۷ |
| کوزے اور آفتابے اور جام اور آنکھوں کے سامنے بہتی شراب | ۱۸ |
| کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے | ۱۹ |
| اور میوے جو پسند کریں | ۲۰ |
| اور پرندوں کا گوشت جو چاہیں | ۲۱ |
| اور بڑی آنکھ والیاں حوریں | ۲۲ |
| جیسے چھپے رکھے ہوئے موتی | ۲۳ |
| صلہ ان کے اعمال کا | ۲۴ |
| اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری | ۲۵ |
| ہاں یہ کہنا ہوگا سلام سلام | ۲۶ |
| اور دہنی طرف والے کیسے دہنی طرف والے | ۲۷ |
| بے کانٹوں کی بیریوں میں | ۲۸ |
| اور کیلے کے گچھوں میں | ۲۹ |
| اور ہمیشہ کے سائے میں | ۳۰ |
| اور ہمیشہ جاری پانی میں | ۳۱ |
| اور بہت سے میووں میں | ۳۲ |
| جو نہ ختم ہوں اور نہ روکے جائیں | ۳۳ |
| اور بلند بچھونوں میں | ۳۴ |
| بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا | ۳۵ |
| تو انہیں بنایا کنواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں | ۳۶ |
| انہیں پیار دلائیاں ایک عمر والیاں | ۳۷ |
| دہنی طرف والوں کے لیے | ۳۸ |
| اگلوں میں سے ایک گروہ | ۳۹ |
| اور پچھلوں میں سے ایک گروہ | ۴۰ |
| اور بائیں طرف والے کیسے بائیں طرف والے | ۴۱ |
| جلتی ہوا اور کھولتے پانی میں | ۴۲ |
| اور جلتے دھوئیں کی چھاؤں میں | ۴۳ |
| جو نہ ٹھنڈی نہ عزت کی | ۴۴ |
| بیشک وہ اس سے پہلے نعمتوں میں تھے | ۴۵ |
| اور اس بڑے گناہ کی ہٹ (ضد) رکھتے تھے | ۴۶ |
| اور کہتے تھے کیا جب ہم مرجائیں اور ہڈیاں ہوجائیں تو کیا ضرور ہم اٹھائے جائیں گے | ۴۷ |
| اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی | ۴۸ |
| تم فرماؤ بیشک سب اگلے اور پچھلے | ۴۹ |
| ضرور اکٹھے کیے جائیں گے، ایک جانے ہوئے دن کی میعاد پر | ۵۰ |